مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ میں نے نیتن یاھو کو انتخابات میں کامیابی پرمبارک باد پیش کی ہے۔ ہمارے درمیان تنازعہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نےکہا کہ ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے میں نے نیتن یاھو سے کہا کہ دو ریاستی فارمولے کو مسترد کرنے سے مزید پیچیدگیاں پیداں ہوں گی۔ اگر اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے تو اس سے مسئلے کے حل کے لیے پرامن سطح پر کی جانے والی کوششیں بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔ فلسطینی ریاست کا قیام خود اسرائیل کے اپنے مفاد میں ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا انتخابات میں کامیابی اور دوبارہ حکومت بنانے کے بعد فلسطینی ریاست کےقیام کی مخالفت کروں گا۔ نیتن یاھو کے اس بیان پر امریکا نے گہری تشویش کااظہار کیا تھا۔ وائٹ ہائوس کے ترجمان گوش ایرنسٹ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ اگر اسرائیل کی طرف سے فلسطینی ریاست کی مخالفت کی جاتی ہے تو امریکا کو اسرائیل کے بارے میں سلامتی کونسل میں اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی۔
امریکی صدر نے ایک دوسرے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے نیتن یاھو کے پچھلے دور حکومت میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اب ضروری ہے کہ خطے میں تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں متبادل آپشنز پرغور کیاجائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اسرائیل کی سلامتی، خود مختاری اور بقاء کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھے گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ صہیونی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
