مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انتہا پسند گروپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہودیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے مسجد اقصیٰ میں جمع ہونے پر زور دیا گیا ہے تاکہ آٹھ بجے عید کی تقریبات کا آغاز کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں یہودیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے دوسرے بڑے داخلی دروازے "باب المغاربہ” کے سامنے جمع ہوں۔ پہلی تقریب آٹھ بجے ہوگی۔ اس کے بعد دوسری ایک بجے اور تیسری شام کے چار بجے منعقد کی جائے گی۔ ان تمام تقریبات میں یہودی شرپسندوں کو قبلہ اول میں جمع ہونے کے لیے مسلسل اپیلیں کی جار ہی ہیں۔
مسجد اقصیٰ میں عیدا العرش کے موقع پر یہودیوں کو جمع کرنے کی مہم میں ویسے تو تمام یہودی آبادکاروں کو دعوت دی گئی ہے تاہم تنظیم کی زیادہ توجہ طلباء پر مرکوز ہے۔ تنظٰیم نے قبلہ اول میں داخل ہونے اور مذہبی تقریبات اور اجتماعی رسومات میں حصہ لینے والوں کی آن لائن رجسٹریشن کا عمل بھی جاری ہے۔ یہودی آباد کاروں کی مذہبی رسومات کی قیادت راچیل ٹیٹو، ٹومی نیسانی اور ارنون سیگال نامی فاشٹ یہودی کریں گے۔
پلان کے مطابق مسجدا قصیٰ کے مرکزی حصے میں گھومنے پھرنے کے بعد یہودی آباد کار قبلہ اول کے تمام اندرونی اور بیرونی مقامات پر بھی دھاوا بولیں گے۔ مسجد کی شمالی، مشرقی سمتوں میں موجود پارکوں اور قبۃ الصخرہ کی طرف بھی جائیں گے۔ اس دوران مسجد اقصیٰ کی جگہ مذعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
