رپورٹ کے مطابق جب سے فلسطینی اتھارٹی اور بعض عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل سے مذاکرات کی حمایت کی گئی ہے اس کے بعد فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
رام اللہ میں جرمن ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک طے شدہ سازش کے تحت بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودیوں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ اسرائیل کی اس سازش کا اصل مقصد آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔
مصطفیٰ البرغوثی نے فلسطینی سیاسی جماعتوں کی صفوں میں پائے جانے والے انتشار اور بے اتفاقی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں سیاسی جماعتوں میں پائے جانےوالے اختلافات کے باعث فلسطینی پارلیمنٹ بھی عضو معطل ہوکر رہ گئی ہے۔ آئین ساز کونسل جیسے ذمہ دار ادارے کی جانب سے فلسطین میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کوئی کام نہیں لیا جا رہا ہے۔
