اسرائیل کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل بینی گانٹز نے کہا ہے کہ دو ہفتے قبل مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے لاپتا ہونے والے یہودی آباد کاروں کی تلاش کے لیے ہمہ پہلو کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک ان کے ٹھکانے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تلاش مشکل بلکہ ناممکن ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف کا کہنا ہے کہ مغربی کنارا اسرائیل دشمن عناصر کا گڑھ بن چکا ہے اور اب یہودی آباد کاروں کے اغواء کو روکنا اور خفیہ گروپوں پر پابندی لگانا ناممکن ہے۔اسرائیلی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی جانب سے انتقامی سیاست اور یہودی آباد کاروں کے اغواء کا سلسلہ جاری رہا تو انہیں سخت ترین پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جنرل گانٹز کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں دو ماہ قبل ملٹری پولیس کے ایک سینیئر افسر باروخ مزراحی کے قتل میں ملوث فلسطینی مزاحمت کار زیاد عواد کا مکان مسمار کرنے کا فیصلہ فوج اور حکومت کی اتفاق رائے سے ہوا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوج مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے شہریوں کی ماہ رمضان میں سنہ 1948 ء کے اسرائیل کا حصہ بننے والے علاقوں میں داخلے پر پابندی پر بھی غور کررہی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تین یہودی آباد کاروں کی گم شدگی کے بعد تل ابیب کو عالمی رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے میں مشکل کا سامنا ہے اور اس میں ابھی مزید وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ لاپتا یہودی آباد کاروں کی تلاش میں جیسے جیسے وقت گذرتا جا رہا ہے ایسے ہی ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم ابھی تک ہم ان کے زندہ سلامت ہونے کے لیے پر امید ہیں۔
