فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز بھی حرم قدسی میں فلسطینی نمازیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان کشیدگی جاری رہی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے نمازیوں کے خلاف پر تشدد حربے استعمال کیے جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے۔
ہلال احمر فلسطین کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کو اسرائیلی فوج نے غرب اردن اور القدس کے نمازیوں پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 52 فلسطینی زخمی ہوگئے۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لیے فلسطینیوں پر نئی پابندیاں عائد کردی تھیں جس پر فلسطینی مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اسرائیلی فورسز کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
محکمہ اوقاف کے مطابق جمعہ کو 10 ہزار فلسطینیوں نے حرم قدسی کے اندر جمعہ کی نماز ادا کی۔
ادھر مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔ بیت لحم میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کیا اور انہیں منشتر کرنے کے لیے ان پردھاتی گولیوں کی بوچھاڑکی گئی۔ آنسوگیس کی شیلنگ اور براہ راست فائرنگ سے بھی انہیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔
بیت المدس میں قلندیا چیک پوسٹ کے قریب بھی فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جہاں فلسطینیوں کو منشتر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز بیت المقدس میں فضا بدستور کشیدہ رہی۔ مسجد کے تمام داخلی اور خارجی دروازوں پر اسرائیلی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی سے قبل 50 سال سے کم عمر افراد کا داخلہ بند کردیا تھا جس کے باعث نمازیوں کی تعداد کم رہی تاہم اس کے باوجود 10 ہزار فلسطینی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے میں کامیاب رہے۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مسجد کے تمام دروازے کھول دیے ہیں اور عمر کی حد کی شرط بھی ختم کردی ہے۔
