مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’’فیفا‘‘ کی ویب سائیٹ پرجاری ایک بیان میں کہا گیاہے کہ فیفا کی انتظامیہ نے فلسطینی فٹ بال یونین کی جانب سے اسرائیل کی رکنیت کی معطلی سے متعلق دی گئی درخواست کو ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے۔ اس درخواست پر رواں ماہ[مئی] کی 29 تاریخ کو سوئس شہر زیورخ میں ہونے والے 65 ویں اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اجلاس میں فیفا کے دستور کے آرٹیکل پندرہ کے مطابق اسرائیل کی رکنیت کی معطلی پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس اجلاس میں فیفا کے نئے سربراہ کا بھی انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اس وقت چار امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ ان میں موجودہ چیئرمین جوزف ساب بلاٹر، ان کے نائب اردنی شہزادہ علی بن الحسین، ہالینڈ کی فٹ بال یونین کے چیئرمین میچل گان براگ اور پرتگالی کھلاڑی لویس فیگو شامل ہیں۔
فیفا کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے 209 رکن ممالک میں سے تین چوتھائی کی حمایت کا حصول ضروری ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطین فٹ بال یونین کی جانب سے فیفا کو ایک درخواست دی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ صہیونی ریاست فلسطینی کھلاڑیوں پر قدغنیں اور بلا جواز پابندیاں عاید کررہا ہے۔ بالخصوص فٹ بال کے کھلاڑیوں کو بدترین مشکلات اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا رہتا ہے۔ اسرائیل دانستہ طورپر فلسطینی کھلاڑیوں کو علاقائی اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت سے روکنے کی سازشیں بھی کرتا ہے۔
فیفا نے اس درخواست پر اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے پرغور کا فیصلہ کیا ہے۔ فٹ بال فیڈریشن میں صہیونی ریاست کے خلاف کارروائی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
