رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی قوم کی آزادی کے حق کو سلب کرنے والی صیہونی ریاست نے نام نہاد الزامات کے تحت فلسطین کے ابلاغی اداروں پر ایک نئی یلغار مسلط کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صیہونی فوج نے اسرائیل مخالف مواد نشر کرنے کے بھونڈے الزام کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے 8 میڈیا پروڈکشن ہاؤس بند کردیے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقامی فلسطینی شہریوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ صیہونی فوج نے غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں 30 فوجی گاڑیوں کے ساتھ میڈیا پروڈکشن کمپنیوں کے دفاتر پر دھاوے بولے۔ دفاتر میں گھس کر عملے کو زدو کوب کیا، توڑپھوڑ کیÂ اور بعد ازاں گن پوائنٹ پر ان اداروں کو چھ ماہ کے لیے سیل کرنے کے نوٹس چسپا کردیے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائے ادرعے نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "اسرائیلی فوج اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی میں میڈیا اور پروڈکشن سے تعلق رکھنے والی 8 فلسطینی کمپنیوں پر چھاپہ مارا گیا جن پر شبہ تھا کہ وہ دہشت گردی پر اکسانے اور اس کو سراہنے کے حوالے سے مواد نشر اور ارسال کر رہی ہیں”۔
رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج نے الخلیل، رام اللہ، بیت لحم اور نابلس میں ٹرانسمیڈیا، پال میڈیا، رامساٹ، فلسطین الیوم ٹی وی چینل، الاقصیٰ چینل، المنار، شیا ٹوڈے، القدس، المیادین اور کئی دوسرے اداروں کے مراکز بھی سیل کردیے۔
دوسری جانب فلسطینی حکومت کے سرکاری نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "صیہونی افواج نے فلسطینی شہروں میں ان میڈیا دفاتر کے پر دھاوے بول کر تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں”۔
المحمود کے مطابق یہ دھاوے فرضی حیلوں کی بنیاد پر مارے گئے جن کو فلسطینی قوم کے خلاف قابض حکام کی جارحیت کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔
مذکورہ کمپنیاں کئی غیر ملکی ، عربی اور فلسطینی سیٹلائٹ چینلوں کو میڈیا سروسز فراہم کرتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے الخلیل، بیت لحم، رام اللہ اور نابلس میں ان کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپوں کے وڈیو کلپ بھی پوسٹ کیے ہیں۔ کمپنیوں کی بندش کے دوران متعدد فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
