مرکزاطلاعات کےمطابق ترکی کی ریاست قونیہ سے ہزاروں افراد گذشتہ روز مختلف قافلوں کی شکل میں انقرہ پہنچے جہاں انہوں نے نماز فجر اسرائیل کے قونصل خانے کے باہرادا کی۔ جہاں سے وہ استنبول کی جانب روانہ ہوگئے۔
ملک کے دوسرے شہروں ، ریاستوں اور صوبوں سے بھی ریلیوں کی شکل میں لوگ آج امدادی ادارے” IHH ” کی کال پراستنبول میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلوس میں شرکت کررہے ہیں۔”القدس فریڈم مارچ استنبول میں "مرمرہ جہاز” پراسرائیلی حملے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر جامع مسجد سلطان محمد فاتح کے باہر سے روانہ ہوگا۔
قونیہ سے آنے والے قافلے کے نگران اور امدادی ادارے کی قونیہ برانچ کے سربراہ حسن حسین اویصال نے کہا کہ وہ گیار بسوں کے ایک قافلے کی شکل میں قونیہ سے روانہ ہوئے تھے۔ راستے میں ان کے ساتھ مزید قافلے بھی شامل ہوتے چلے گئے اور انقرہ پہنچنے پرقافلے کے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب ہم سب جمعہ اور عید کی نماز بیت المقدس میں ادا کریں گے۔
خیال رہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ یہ یکجہتی مارچ 31 مئی سنہ 2010 ء کو فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے لیے آنے والے بحری قافلے فریڈم فلوٹیلا میں شامل ترک بحری جہاز "مرمرہ” پراسرئیلی حملے کی پانچویں سالگرہ پرمنعقد کیا جا رہا ہے۔ پانچ سال قبل آج ہی کے روز اسرائیلی فوجیوں نے کھلے سمندر میں ترکی کے بحری جہاز پرحملہ کرکے کم سے کم 10 ترک رضاکاروں کو شہید اور 50 کو زخمی کردیا تھا۔ صہیونی حکام کے محصورین غزہ کے لیے بھیجا گیا ہزاروں ٹن سامان لوٹ لیا تھا اور قافلے میں شامل 500 رضاکاروں کو یرغمال بنالیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
