اسرائیلی عدالت نے جنوبی مغربی کنارے کےشہر بیت لحم کی میونسپلٹی کے قریب واقع پانی کے کنویں کی بندش سے متعلق مقامی حکامکے اعلان کی توثیق کرتے ہوئے کنویں کے مالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے دو ہفتوں کے اندر بند کرے۔ الخضر میونسپلٹی میں صہیونیدیوار کی تعمیر کے خلاف جاری مہم کے کوارڈینٹر احمد صلاح نے بتایا ہے کہ "بیتایل” [رام اللہ] کی اسرائیلی عدالت نے علاقے کے ایک کسان محمود صبیح کی جانب سے کنویں کی بندش کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کے فیصلے کی منسوخی کے لئے دائرمقدمہ خارج کر دیا۔ زرعی زمین کو سیراب کرنے والا یہ کنواں اسرائیل کے نسلی امتیازکی مظہر دیوار فاصل کے قریب واقع ہے۔ احمد صلاح نے بتایا کہ عدالت نے کنواں بند کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔ یہ کنواں زرعی امدادی انجمن نے ہالینڈ کی فنڈنگ سے کھوایا تھا۔ اس منصوبے کے تحت علاقے میں کسانوں کو مختلف پراجیکٹس میں مدد دی جاتی ہے۔ عدالت نے کسان صبیح کو کنواں منہدم کرنے کے لئے دوہفتے کی مہلت دی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کنواں علاقے کی زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ علاقے کے باسیوں کے پاس زراعت کے علاوہ کوئی دوسرا کمائی کا ذریعہ نہیں ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
