اسرائیل کی سپریم کورٹ نے مقبوضہ فلسطین میں ایک قبرستان کی زمین پر پارک تعمیر کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے صہیونی حکام کو قبرستان کو پارک میں تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ پارک کا یہ مجوزہ منصوبہ مقبوضہ فلسطین کے سنہ انیس سواڑتالیس میں قبضے میں لیے گئے شہرالرملہ میں’’زرنوف‘‘ قبرستان کی زمین پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ فلسطین میں مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمہ دار تنظیم اقصٰی فاؤنڈیشن نے صہیونی حکومت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ خیال رہے کہ الرملہ شہر کے اس قبرستان پرچھ دہائیاں قبل یہودیوں نے قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد وہاں پر فلسطینیوں کواپنی میتیں دفن کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن نے صہیونی سپریم کورٹ کا فیصلہ جانب دارانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ایک بیان میں فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے ’’رحوفوت‘‘ صہیونی بلدیہ کی طرف داری کرتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کی ہے۔ اسرائیلی عدالت کا فیصلہ مسلمانوں کے مقدس مقام اور ان کی میتوں کی کھلی توہین ہے۔ تنظیم نے قبرستان کی جگہ پارک کی تعمیرکے صہیونی فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا اور رحوفوت بلدیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے قبرستان کو پارک اور تفریح گاہ میں تبدیل کرنے کے بجائے پارک کے لیے کسی اور جگہ کا انتخاب کرلے۔ کیونکہ مجوزہ جگہ میں مسلمانوں کی کئی سو سال پرانی قبریں موجود ہیں اور وہاں پر پارک کی تعمیر کا مطلب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور ان کے میتوں کی توہین سمجھا جائے گا۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ صہیونی سپریم کورٹ کے جج نے فیصلہ سنانے سے قبل فاؤنڈیشن کے وکیل محمد سلیمان سے قبرستان پرتفریح گاہ کی تعمیرکی مخالفت کے بارے میں دلائل دینے کوکہا۔ وکیل نے نہایت مدلل انداز میں عدالت کو بتایا کہ قبرستان پرپارک کی تعمیر نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ آسمانی تعلیمات کے منافی اقدام ہے۔ ایسا کرنے سے فلسطینیوں اورمسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوں گے اور مسلمان اس اقدام کو اپنے میتوں کی توہین تصور کریں گے۔ دلائل سننے کے باوجود صہیونی جج نے فیصلہ مقامی اسرائیلی بلدیہ کے حق میں دیا۔ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ محمد سلیمان نے کہا کہ ’’ہمیں عدالت کے لب و لہجے سے پہلے ہی اندازہ ہوچکا تھا کہ کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں ہوگا کیونکہ ججوں کی جانب داری پہلے ہی کھل کرسامنے آگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم زرنوف قبرستان کو یہودیوں کی دست برد سے بچانے کے لیے مزید دفاعی اقدامات بھی کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین