مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے جیل میں قید ایک فلسطینی صحافیہ کو رہائی کے بعد دو ہفتوں کے لیے بیت المقدس سے بے دخل کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی حکام نے صحافیہ اور سماجی کارکن صابرین دیاب کو اس شرط پر رہا کیا کہ وہ جرمانہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دو ہفتے کے لیے بیت المقدس میں داخل نہیں ہوگی۔رپورٹ کے مطابق دیاب کو اسرائیلی فوج نے چند روز قبل بیت المقدس میں باب العامود کے مقام پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے قبل حراست میں لیے لیا تھا۔ حراست میں لیے جانے کے بعد اسے القشلہ نامی بدنام زمانہ حراستی مرکز میں سات گھنٹے تک جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
گرفتاری کے وقت اسرائیلی فوج کے ایک افسر نے اسے غلیظ الفاظ میں گالیاں دیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے بعد حراست میں لے لیا۔ فوجی افسر نےالزام عائد کیا کہ صابرین دیاب اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ عدالت میں اس کے خلاف نام نہاد الزامات کے تحت چارج شیٹ پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر الزامات ثابت نہ ہونے کے بعد اسے رہا تو کردیا مگر ساتھ ہی دو ہفتے کے لیے بیت المقدس میں داخل نہ ہونے کی شرط بھی عائد کی۔
