الخلیل (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج نے کل جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے میں عدالت میں نکاح کے لیے شرعی عدالت میں جانے والے دولہا اور دلہن اور اس کے کئی دوسرےعزیزوں کو کئی گھنٹے تک ایک چیک پوسٹ میں حبس بے جا میں بند رکھا۔ بارتیوں کی طرف سے احتجاج کے بعد انہیں چھوڑا گیا۔ یہ واقعہ غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں پیش آیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہÂ ایک فلسطینی نوجوان کی شادی کے موقع پراسرائیلی فوج نے باراتیوں اور دلہا دلہن کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا۔دلہا اور اس کی ہونے والی اہلیہ اپنے دوست اقارب کے ہمراہ الخلیل شہر میں قائم شرعی عدالت میں نکاح درج کرانے جا رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے مسجد ابراہیمی کے قریب ابو الریش چیک پوسٹ پر انہیں روک لیا۔ صیہونی فوج نے دلہن سناء حکیم الاطرش اور اس کے ہونے والے شوہر کو حراست میں لے لیا۔
اس موقع پر اس کے ساتھ آنے والے کئی دوسرے اقارب کو بھی حراست میں لے کر بغیر کسی وجہ کے حبس بے جا میں بند کردیا۔ بعدازاں دلہا اور دلہن کے اہل خانہ اور دیگر شہریوں نے نوبیاتا جوڑے کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں حبس بے جا میں بند کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔
دونوں کو کئی گھنٹے تک پابند سلاسل رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔
