اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی اسیران نے مغربی کنارے میں حکمراں صدر محمود عباس کی انتظامیہ کی طرف سے اسیران کے مطالبات کو نظرانداز کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسیران کا کہنا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی ان کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے مکر گئی ہے اور ان کی رہائی کے لیے کسی بھی فورم پر کوئی مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی جیلوں میں طویل المدتی اسیران نے انسانی حقوق کے ایک نمائندے کےذریعے اپنا ایک بیان ذرائع ابلاغ تک پہنچایا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی کی طرف سے کئی بار اسیران کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کی رہائی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے لیکن اب صدر محمود عباس کی انتظامیہ نے انہیں سرے سے فراموش کردیا ہے۔
اسیران کا کہنا ہے کہ صہیونی مظالم کا شکار قیدی بھوک ہڑتالوں جیسے خطرناک انداز اختیار کرکے اپنی رہائی اورجائز حقوق کے لیے مطالبات کرتے ہیں لیکن فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے ان کے حقوق پر کسی فورم پر بات نہیں کی جاتی ہے۔ اسیران کا کہنا ہے کہ وہ اس ماہ فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان انیس سال قبل طے پانے والے اسلو معاہدے کی انیسویں سالگرہ پربھوک ہڑتال کریں اور عین ممکن ہے کہ ہماری یہ بھوک ہڑتال آخر دم تک جاری رہے کیونکہ اسیران نے اس بھوک ہڑتال مہم کو ‘‘رہائی یا شہادت’’ کا عنوان دیا ہے۔ اسیران یا بھوک سے جام شہادت نوش کریں گے یا جیلوں سے رہائی پائیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
