اسرائیل کی ایک انتظامی عدالت نے فلسطینی خاتون اسیر رہ نما فداء حسنی الشیبانی کی مدت حراست میں مزید ایک ماہ بیس دن کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 21 اگست تک انتظامی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اسیرہ کی جیل میں انتظامی حراست میں یہ چوتھی مرتبہ توسیع ہے۔
فلسطینی اسیرہ 37 سالہ الشیبانی کے اہل خانہ کے ایک ذرائع نے”مرکز اطلاعات فلسطین ” کو بتایا کہ اسرائیلی جیل حکام نے جانب سے الشیبانی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جیل میں اپنے شوہر اور دیگر قیدیوں سے ملاقات کے دوران کینٹین سے ایسی چیزیں بھی خرید کر انہیں فراہم کرتی رہی ہے جن کی خریداری قیدیوں کے لیے ممنوع ہے۔
خیال رہے کہ اسیرہ حسنی الشیبانی کا تعلق مغربی کنارے کے شہر جنین کے العرابہ قصبے سے ہے۔ وہ دو بچوں کی ماں ہے۔ اسے گذشتہ 12 مئی کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حسنی الشیبانی کے شوہر احمد مصطفیٰ الشیبانی 27 جولائی 2003ء سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔ انہیں ایک فدائی حملے میں معاونت کے الزام میں تین مرتبہ عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔
فلسطینی اسیرہ 37 سالہ الشیبانی کے اہل خانہ کے ایک ذرائع نے”مرکز اطلاعات فلسطین ” کو بتایا کہ اسرائیلی جیل حکام نے جانب سے الشیبانی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جیل میں اپنے شوہر اور دیگر قیدیوں سے ملاقات کے دوران کینٹین سے ایسی چیزیں بھی خرید کر انہیں فراہم کرتی رہی ہے جن کی خریداری قیدیوں کے لیے ممنوع ہے۔
خیال رہے کہ اسیرہ حسنی الشیبانی کا تعلق مغربی کنارے کے شہر جنین کے العرابہ قصبے سے ہے۔ وہ دو بچوں کی ماں ہے۔ اسے گذشتہ 12 مئی کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حسنی الشیبانی کے شوہر احمد مصطفیٰ الشیبانی 27 جولائی 2003ء سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔ انہیں ایک فدائی حملے میں معاونت کے الزام میں تین مرتبہ عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔
