اسرائیل کے عبرانی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی فوج مصر اور فلسطین کی سرحد کے ساتھ سیناء کےعلاقے میں ممنوعہ علاقہ مخصوص کرنےکے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
سرحد پر ممنوعہ علاقہ گذشتہ ماہ مصری فوجیوں پر دہشت گردوں کے حملوں کے تناظر اور اس کے بعد سرحد مصری فوج کی نقل وحرکت کے ضمن میں کیا گیا۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو کی رپورٹ کےمطابق فوج کی اعلیٰ سطحی کمان سرحد کے ساتھ ممنوعہ علاقہ مخصوص کرنے کے لیے ایک فارمولے پرغور کر رہی ہے۔یہ فارمولہ کافی حد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔ باضابطہ اعلان سے قبل منصوبے پر آرمی چیف سے دستخط کرائے جائیں گے۔
ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت مصر کی سرحد میں ممنوعہ قرار دیے گئے علاقے میں صہیونیوں کو سرحد سے کم سے کم تین سو میٹر دور روک لیا جائے گا۔ ادھر اخبار یدیعوت احرونوت نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ مصری فوجیوں پر سیناء میں حملے کے بعد یہودی آباد کاروں کو سرحد کے آس پاس گھومنے سے خطرات لاحق ہیں۔ یہودیوں کی جانیں کسی خطرے میں پڑنے سے بچانےکے لیے فوج نے ممنوعہ زون قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کےمطابق ممنوعہ علاقے میں داخلے کے لیے فوج سے خصوصی اجازت حاصل کرنا ہو گی۔ فوج کی پیشگی اجازت کے بغیر داخل ہونے والے کسی بھی مشتبہ شخص کو گولی مار دی جائے گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
