غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں کل جمعہ کو اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ’یوم الغضب‘ اور نفیر عام منایا گیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی فورسز نے حسب معمول نہتے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں دسیوں مظاہرین زخمی اور آنسوگیس کی شیلنگ سے بے ہوش ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے مختلف شہروں میں اسیران کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں پر اسرائیلی فوج نے آندھا دھند لاٹھی چارج، آنسوگیس کی شیلنگ اور دھاتی گولیوں کا استعمال کیا۔ تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 8 فلسطینی مظاہرین کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ آنسوگیس کی شیلنگ سے 30 فلسطینی بے ہوش ہوگئے۔
فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے مشرقی علاقے میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے اسیران کی حمایت میں ریلی نکالی۔ فلسطینی شہریوں کی پرامن ریلی پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 8 فلسطینی زخمی ہوگئے جب کہ 30 شہری آنسوگیس کی شیلنگ میں زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو مشرقی غزہ کے اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے بعض شہریوں کی حالت تشویشناک ہے۔
اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں پانچ التماسی نقاط پر اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
ادھر مقبوضہ غرب اردن میں بھی ہزاروں فلسطینیوں نے نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد صہیونی فوج کے خلاف اور اسیران کی حمایت میں ریلیاں نکالیں۔
اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور تشدد کے مجرمانہ حربے آزمائے جس کے نتیجے میں دسیوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
