فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین میں چرچوں کی نگران سپریم کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز یہودی شرپسندوں نے بیت المقدس میں عیسائیوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ’کنیسہ القیامۃ‘ کے مرکزی داخلی دروازے پر اسرائیل کا پرچم لہرا دیا۔ اسرائیلی پرچم لہرائے جانے پر مسیحی برادری میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔
سپریم کونسل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین میں تمام عیسائی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات پر فلسطینی ریاست کا پرچم لہرانے کی اجازت ہے۔ یہودی شرپسندوں کی طرف سے کنیسہ القیامیہ کے داخلی دروازے پر اسرائیل کا پرچم لہرانا مذہبی اشتعال انگیزی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی سنہ 2012ء میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں قرار دیا تھا کہ فلسطین میں موجود تمام عیسائی عبادت گاہوں کی نگرانی فلسطینی ریاست کے پاس ہو گی۔ یہودی شرپسندوں کی طرف سے اقوام متحدہ کے اس فیصلے کی بھی توہین کی گئی ہے۔
کنیسہ القیامۃ کے داخلی دروازے پر اسرائیلی پرچم لہرانے کے خلاف بہ طور احتجاج مسیحی برادری نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔ فلسطین میں عیسائی برادری کے سرکردہ مذہبی رہنماؤں نے بھی عبادت گاہ پر اسرائیلی جھنڈا لہرانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
