• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فریڈم فلوٹیلا حملہ کیس، ترکی اسرائیل کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرے گا

جمعرات 24-05-2012
in فلسطین
0
plf ship1
0
SHARES
1
VIEWS

plf ship1

اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ ترکی نے مئی سنہ2010ء کو فلسطینی شہر غزہ کی پٹی جانے والے عالمی بحری جہازوں کے ایک امدادی قافلے

پراسرائیلی بحریہ کے حملے کے خلاف دنیا کی کسی بڑی عدالت میں اسرائیل کےخلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ترکی دنیا کی کس عدالت میں انصاف کے لیے اپیل کرے گا۔
اسرائیل کے عبرانی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے جنرل پراسیکیوٹر جنرل نے حال ہی میں اسرائیل کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ گابی اشکنزئی اور ان کے تین دیگر اہم افسران کے خلاف فرد جرم تیار کرلی ہے، جسے جلد ہی کسی عالمی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق انقرہ حکومت کےہاں تیار کردہ فرد جرم میں سابق آرمی چیف، صہیونی بحریہ کے سابق سربراہ اور کئی دیگر فوجی اور سیاسی افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے اور ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سنہ 2010ء میں امدادی مشن پرجانے والے جہازں پرکھلے سمندر میں حملے میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق ترکی ماضی میں کئی مرتبہ سابق آرمی چیف جنرل اشکنزائی اور ان کے تین اہم ترین جرنیلوں کے خلاف کئی مرتبہ عمر قید کی سزا کا مطالبہ کرچکا ہے۔ ملزمان میں سابق انٹیلی جنس چیف جنرل عاموس یدلین اور بحریہ کے سابق سربراہ الیعازر ماروم بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اکتیس مئی سنہ دو ہزار دس کو عالمی امدادی سامان کی کھیپ لے کر محصور فلسطینی شہر غزہ کی پٹی کیطرف جانے والے عالمی بحری جہازوں کے ایک قافلے پر اسرائیلی بحریہ نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ترکی کے نو رضاکار شہید اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیل نے تمام جہازوں کے عملے اور ان میں موجود چھ سو رضاکاروں کو حراست میں لے لیا تھا اور امدادی سامان لوٹ لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ ترکی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے جہاز پر حملے پر معافی مانگے اور شہداء کے ورثاء کو حرجانہ ادا کرے۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.