اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں سوموار کے روز ایک فلسطینی فدائی حملہ آور کی افواہ کے بعد پولیس نے شہر میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تلاشی کا سلسلہ شروع کیا اور ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے عبرانی ذرائع بلاغ نے بتایا ہے کہ خود کش بمبار کی موجودگی کی افواہ کے بعد فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے فوری حرکت میں آگئے۔
ذرائع کے مطابق نامعلوم اطراف سے یہ افواہ چھوڑی گئی کہ جنین شہر کے قباطیہ پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والا ایک فلسطینی علی ابو الرب تل ابیب میں موجود ہے اور وہ فدائی حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے عبرانی ذرائع بلاغ نے بتایا ہے کہ خود کش بمبار کی موجودگی کی افواہ کے بعد فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے فوری حرکت میں آگئے۔
ذرائع کے مطابق نامعلوم اطراف سے یہ افواہ چھوڑی گئی کہ جنین شہر کے قباطیہ پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والا ایک فلسطینی علی ابو الرب تل ابیب میں موجود ہے اور وہ فدائی حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے عبرانی ٹی وی نے پولیس کا ایک بیان نقل کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے علی ابو الرب نانی ایک 22 سالہ فلسطینی نوجوان کو حراست میں لیا ہے۔ وہ پچھلے کئی روز سے غیرقانونی طریقے سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پہنچا تھا اور وہ شہر میں خود کش حملہ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہا تھا۔
اسرائیل کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے "شاباک” نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی نوجوان علی ابو الرب تل ابیب میں فدائی حملہ کرنے کی نیت رکھتا تھا۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق علی ابو الرب کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے سے ہے ۔ وہ پچھلے کچھ ایام میں تل ابیب میں غیرقانونی طور پر قیام کر چکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
