فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ ان کے سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کا کوئی بھی شہری گذشتہ اتوار کو سیناء میں مصری فوجیوں پر حملے میں ملوث نہیں ہے۔ ان حملوں میں کم سے کم سولہ مصری فوجی جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے تھے۔ اسماعیل ھنیہ نے مصری صدر محمد مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ محصور شہرغزہ کی پٹی کے واحد بین الاقوامی رابطے رفح کراسنگ کو فوری طور پرکھولنے کا حکم دیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو ایک افطار ڈنرسے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں مصری صدر محمد مرسی سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ رفح کراسنگ کو کھولنے کا فوری حکم دیں کیونکہ سرحدی گذرگاہ کی بندش سے غزہ کی پٹی میں شہریوں کو سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ غزہ کی پٹی کا کوئی بھی شہری سیناء کے واقعے میں ملوث نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم مصری حکومت کے ساتھ فوجیوں کے گھناؤنے قتل کی تحقیقات میں تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک رفح بارڈر کو کھول نہیں دیا جاتا اس وقت تک غزہ کی پٹی میں زندگی معمول پر نہیں آسکتی۔
خیال رہے کہ مصری حکام نے گذشتہ اتوار کو فوجیوں پر نامعلوم مسلح افراد کے حملوں کے بعد رفح گذرگاہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا تھا۔ وزیراعظم نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام اور حماس کی حکومت مصر کی سلامتی اور استحکام کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی۔ اگر کسی کے پاس غزہ کی پٹی کے کسی باشندے کے مصری فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ ہمیں فراہم کرے، ہم خود کارروائی کریں گے۔ بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے غزہ کی گذرگاہ کو بند کرنا اور ڈیڑھ ملین افراد کو ایک ناکردہ گناہ کی سزا دینا کسی طورپر بھی معقول بات نہیں ہے۔
فلسطینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی فلسطینی اور محب وطن شہری مصری فوجیوں پرحملے میں ملوث نہیں ہوسکتا۔ یہ دہشت گردی اسرائیل کے ایجنٹوں کی کارستانی ہوسکتی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
