• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

غزہ پر حملے کی دھمکیاں اسرائیل کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں: تجزیہ نگار

جمعہ 04-07-2014
in فلسطین
0
plf war
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین میں دفاعی امور کے ماہر نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کرنے کی دھمکیوں کو خیالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھمکیاں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں

یہ جنگ نئی نہیں بلکہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔
 
میجر جنرل ریٹائرڈ واصف عریقات نے "مرکز اطلاعات فلسطین” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی پر حملے کی دھمکیاں تل ابیب کی فلسطینیوں کے خلاف جاری نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔  یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اسرائیل کی مسلسل کی راگنی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر عریقات کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل نے اپنی ریزرو فوج ابھی واپس نہیں بھیجی جس سے جنگ کا اشارہ ملتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے فوج کو میدان میں رکھنے اور انہیں جنگی مشقوں میں مصروف رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نفسیاتی جنگ میں اسرائیل کی تازہ دھمکی یہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت غزہ کی پٹی میں بحری اور بری راستوں سے کارروائی کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل غیرمعمولی انداز میں غزہ کی پٹی کے گرد اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں جنرل عریقات کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کی تو پہلے مرحلے پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے اس نوعیت کی دھمکیاں بھی سامنے آ چکی ہیں جو مزاحمتی قیادت کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔
دوسرے پس منظر میں اسرائیلی چھاپہ مار دستوں کی کارروائی ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہ یک وقت فضائی اور زمینی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے لیے جو ہنگامی پلان ترتیب دیا ہے، اگر اسی پرعمل درآمد ہوا تو دشمن کو زیادہ نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا کیونکہ اسرائیلی فوج زیادہ وقت غزہ کی پٹی کے اندر موجود نہیں رہے گی بلکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو توپ خانے اور جنگی جہازوں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔ جنگ کی صورت میں غزہ کی پٹی مین جبالیا کے شمال مغرب اور بیت حانون کے شمال مشرق کی طرف سے کارروائی اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کی روک تھام کے لیے دفاعی حصار قائم کیا جائے گا۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.