فلسطین میں دفاعی امور کے ماہر نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کرنے کی دھمکیوں کو خیالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھمکیاں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں
یہ جنگ نئی نہیں بلکہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔
میجر جنرل ریٹائرڈ واصف عریقات نے "مرکز اطلاعات فلسطین” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی پر حملے کی دھمکیاں تل ابیب کی فلسطینیوں کے خلاف جاری نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اسرائیل کی مسلسل کی راگنی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مسٹر عریقات کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل نے اپنی ریزرو فوج ابھی واپس نہیں بھیجی جس سے جنگ کا اشارہ ملتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے فوج کو میدان میں رکھنے اور انہیں جنگی مشقوں میں مصروف رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نفسیاتی جنگ میں اسرائیل کی تازہ دھمکی یہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت غزہ کی پٹی میں بحری اور بری راستوں سے کارروائی کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل غیرمعمولی انداز میں غزہ کی پٹی کے گرد اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں جنرل عریقات کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کی تو پہلے مرحلے پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے اس نوعیت کی دھمکیاں بھی سامنے آ چکی ہیں جو مزاحمتی قیادت کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔
دوسرے پس منظر میں اسرائیلی چھاپہ مار دستوں کی کارروائی ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہ یک وقت فضائی اور زمینی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے لیے جو ہنگامی پلان ترتیب دیا ہے، اگر اسی پرعمل درآمد ہوا تو دشمن کو زیادہ نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا کیونکہ اسرائیلی فوج زیادہ وقت غزہ کی پٹی کے اندر موجود نہیں رہے گی بلکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو توپ خانے اور جنگی جہازوں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔ جنگ کی صورت میں غزہ کی پٹی مین جبالیا کے شمال مغرب اور بیت حانون کے شمال مشرق کی طرف سے کارروائی اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کی روک تھام کے لیے دفاعی حصار قائم کیا جائے گا۔
