فلسطینی شہر غزہ کی پٹی پر پچھلے ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے باعث عالمی اور علاقائی توجہ غزہ کی جانب مبذول ہونے سے اسرائیلی فوج اور انتہا پسند یہودیوں کو قبلہ اول کے خلاف ریشہ دوانیوں میں اضافے کا ایک نیا موقع ہاتھ آگیا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم "الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فوج کشی کے بعد عالمی برادری کی توجہ قبلہ اول کی جانب سے ہٹ گئی ہے جس کے باعث اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کے خلاف اپنی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو آگے بڑھانے کا ایک نیا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے قبلہ اول میں چھاپوں کو نہ صرف روز کا معمول بنا لیا ہے بلکہ دن میں کئی کئی بار مسجد اقصیٰ میں چھاپے مارے جاتے اور نمازیوں اور روزہ داروں کو زد و کوب کیا جاتا ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر حکمت نعامنہ نے ایک پریس بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی فوج کی تازہ کارروائیاں قبلہ اول پر براہ راست منفی اثرات مرتب کررہی ہیں۔ غزہ پر فوج کشی کے بعد عالمی اور علاقائی توجہ غزہ کی جانب مبذول ہونے کے بعد صہیونی فوج نے قبلہ اول پر چھاپوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی جارحیت اور قبلہ اول کے خلاف سازشیں عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ڈاکٹر حکمت کا کہنا تھا کہ عرب اور مسلمان ممالک کی تمام توجہ ان دنوں غزہ کی صورت حال پر مرکوز ہے جس کے باعث وہ قبلہ اول کے طرف زیادہ توجہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج، انتہا پسند یہودیوں اور صہیونی پولیس نے اس موقع کو غنیمت جان کر مسجد اقصیٰ میں نمازوں کی ادائی کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں کو تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی درندگی کے خلاف آج جمعہ کو فلسطین بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ اس موقع پر فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد قبلہ اول میں ماہ صیام کے دوسرے جمعہ کی ادائیگی کی کوشش کرے گی۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں کی قبلہ اول تک رسائی روکنے کے لیے پہلے طاقت کے استعمال کی تیاری کررکھی ہے۔ فلسطین کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں قبلہ اول میں آنے والے نمازیوں اور روزہ داروں میں سخت تصادم کا بھی خطرہ ہے۔
