فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک مقامی فلسطینی خاتون صحافیہ بثنیہ حمدان نے انکشاف کیا ہے کہ رام اللہ کے قام ’یاسرعرفات‘ میوزیم کے اندر دیوار پر ایک جگہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی حصے ’دیوار براق‘ کی تصویر چسپاں ہے جس پر عربی اور انگریزی زبانوں میں اس دیوار کو ’دیوار گریہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اصطلاح صہیونی استعمال کرتے ہیں جب کہ اسلامی تاریخی روایات میں اس دیوار کو ’دیوار براق‘ یا مقام براق کہاجاتا ہے۔
بثنیہ حمدان نے کہا کہ حال ہی میں اس نے بیت المقدس اوپن یونیورسٹی کے طلباء طالبات کے ایک گروپ کے ہمراہ رام اللہ میں یاسرعرفات میوزیم کا دورہ کیا۔ وہ میوزیم پر عبرانیت کی چھاپ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ فلسطینی انتظامیہ اس قدر لاپراہی کا مظاہرہ کیسے کرسکتی ہے۔ مگر فلسطینی انتظامیہ اور رام اللہ اتھارٹی کی طرف سے اس مجرمانہ حرکت کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ میوزیم کے اندر دیواروں پر نصب تصاویر میں جگہ جگہ عربی اور اسلامی اصطلاحات کے بجائے عبرانی اصطلاح استعمال کی گئی ہیں۔
یاسرعرفات میوزیم میں عربی اور اسلامی تاریخی اصطلاحات اور ناموں کے استعمال کے بجائے عبرانی اور اسرائیلی ناموں کے استعمال نے فلسطینی اتھارٹی کی بدینتی کا پول کھول دیا ہے۔ عبرانی اصطلاحات کے استعمال سے فلسطینی اتھارٹی کی صہیونیت نوازی کھل کر سامنے آگئی ہے
،
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی نے رام اللہ میں لیجنڈ فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کی باقیات پر مشتمل ایک میوزیم قائم کیا تھا۔ یہ میوزیم یاسرعرفات کی برسی کے موقع پر ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔ مگر فلسطینی سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے اس اقدام پر تنقید بھی کی گئی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس یاسرعرفات مرحوم کی وصیت کے مطابق انہیں مسجد اقصیٰ کے پہلو میں دفن کرنے اور ان کی مبینہ زہر خورانی کے نتیجے میں ہونے والی موت کی تحقیقات میں ناکام رہے ہیں۔
