مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ترک وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ میں نے پیریس میں دہشت گردی مخالف امن مارچ میں کیوں شرکت کی تو میں کہتا ہوں کہ تو کیا ہمیں اس طرح کے مواقع کو نیتن یاھو جیسے دہشت گردوں کے لیے خالی چھوڑ دینا چاہیے۔ جہاں بھی انسانیت اور امن کی بات ہوگی ہم ضرور شریک ہوں گے۔ بہت جلد ایسا ہی ایک امن مارچ آزاد فلسطینی ریاست کے دارالحکومت میں بھی ہوگا۔
احمد داود اوگلو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہ نما دولت بھچلی نے میرے پیریس میں امن مارچ میں شرکت کی مخالفت کی ہے۔ ترکی کا ایسے کسی بھی ایونٹ میں شامل ہونا سچائی پر مبن ایک فطری بات ہے لیکن کسی امن مارچ میں اسرائیلی وزیراعظم کی شرکت قطعی طور پر غیر فطری ہے کیونکہ اسرائیل تو خود دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جہاں بھی ہوگی ترکی اسے انسانیت کے خلاف جرم تصور کرے گا جس اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے اور اس کانشانہ کوئی بھی کیوں نہ ہو۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
