نابلس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی عدالت کے فیصلے کے باوجود صیہونی ملٹری پراسیکیوٹر نے ایک ہفتے سے پابند سلاسل فلسطینی اسیرہ ھنیہ شرایعہ کی رہائی پر عمل درآمد مسترد کر دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک ہفتہ قبل اسرائیل کی فوجی عدالت نے شرایعہ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا مگر ایک خاتون جیل اہلکار کے ساتھ تو تکار کے بعد اس کی رہائی کا حکم مسترد کر دیا ہے۔خیال رہے کہ شرایعہ کے ساتھ اس کا ایک خوار بیٹا بھی پابند سلاسل ہے، جب کہ اس کا ایک بیٹا حسن دو ماہ سے پابند سلاسل ہے۔ شرایعہ کے بیٹے ولید نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف اس وقتÂ مزاحمت کی تھی جب صیہونی فوجیوں نے ھنیہ شرایعہ کو حراست میں لینے کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔
خیال رہے کہ شرایعہ کے تین بیٹے حسن، ولید اور محمد تینوں متعدد بار گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
دو روز قبل الشرایعہ کو سالم عدالت میں پیش کیا گیا جہاں 5500 شیکل جرمانہ کا حکم دینے کے بعد اس کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم قابض حکام نے الشرایعہ کی رہائی سے انکار کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ اسیرہ الشرایعہ صیہونی زندانوں میں قید فلسطینی قید معمر خوایتن میں شامل ہیں۔
