مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صدر محمود عباس نے رام اللہ میں بیت المقدس کے حوالے سے ایک یادگاری نمائش سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اردن سے ایک بار پھر سلامتی کونسل سے رجوع کے لیے صلاح مشورہ کریں گے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہمیں اگر باربار بھی سلامتی کونسل میں جانا پڑا تو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکتیس دسمبر کو سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی قرارداد مسترد ہونے کے بعد سفارتی میدان میں کوششوں کے دروازے بندنہیں ہوئے ہیں۔ عالمی برادری فلسطینی قوم کی پشت پرکھڑی ہے۔
صدر محمود نے کہا کہ ہمیں سلامتی کونسل میں جانے کے لیے مزید عالمی حمایت درکار ہے۔ ہم اس سلسلے میں غور و خوض کررہے ہیں۔ اردن کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد ممکن ہے ایک آدھ ہفتے کے اندر ہی ہم دوبارہ سلامتی کونسل سے رجوع کریں۔ صدر عباس کا کہنا تھا کہ ہم دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ بھی سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ کسی نہ کسی موقع پرسلامتی کونسل آزاد فلسطینی ریاست تسلیم کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کےحقوق دلانے کی حمایت کرے گی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے 31 دسمبر 2014 ء کو سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں سنہ 2017 ء تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ڈیڈ لائن دینے اور دو سال کے عرصے میں فلسطین سے اسرائیل کے قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم امریکا کی جانب سے قرارداد ویٹو کیے جانے کے بعد اسے مسترد کر دیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی نے فوری طور پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کا فیصلہ کرتے ہوئے بین الاقوامی فوج داری عدالت کی رکنیت کے لیے درخواست دے دی تھی۔
فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں اس سے قبل جو قرارداد پیش کی گئی تھی اور پوری قوم کی نمائندی نہیں تھی اور آئندہ اس قرارداد میں مزید ترامیم کرکے اس میں بیت المقدس، پناہ گزینوں اور فلسطینی اسیران کا معاملہ بھی پیش کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ سلامتی کونسل میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو فلسطین کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
