رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے غرب اردن کے شمالی شہر نابلس کے جنوب میں واقع ’قریوت‘ اور ’جالود‘ قصبوں کے فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کی اعلیٰ عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں صیہونی کالونی کی تعمیر رکوانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق درخواست گذاروں کی جانب سے اسرائیلی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ’جالود‘ اور ’قریوت‘ کے درمیان ایک نئی صیہونی کالونی کے لیے جس جگہ قبضہ کیا ہے وہ فلسطینیوں کی نجی اراضی پر مشتمل ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزارت دفاع کو بھی اس اراضی کی نجی ملکیت کے ثبوت فراہم کرتے ہوئے قبضہ اور تعمیرات روکنے کی کوشش کی تھی مگرصیہونی وزارت دفاع نے اسے غیر شفاف قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔
عبرانی ٹی وی 7 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا ریاستی قانون فلسطینیوں کی نجی ملکیتی اراضی پر تعمیرات کی اجازت نہیں دیتا تاہم صیہونی قانون کے تحت فلسطین کی عام اراضی پر تعمیرات کی جاسکتی ہیں۔
فلسطینیوں کی نجی اراضی پر صیہونی کالونی کی تعمیر کو اسرائیلی عدالت پہلے بھی غیرقانونی قرار دے چکی ہے۔ اس کی مثال ’عمونا‘ نامی ایک صیہونی کالونی کی ہے، جسے چند ماہ قبل خالی کرایا گیا تھا۔ یہ کالونی رام اللہ کے قریب فلسطینیوں کی نجی ملکیتی اراضی پر تعمیر کی گئی تھی۔
صیہونی حکومت نے رام اللہ سے خالی کرائی گئی’عمونا‘ کالونی کے صیہونی آباد کاروں کو بسانے کے لیے نابلس کے علاقے میں ’عمیحائی‘ نام کی ایک نئی بستی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس بستی کے لیے بھی فلسطینیوں کی نجی اراضی پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
سنہ 1993ء میں طے پائے اوسلو سمجھوتے کے بعد غرب اردن میں یہ پہلی کالونی ہے جس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ البتہ غرب اردن میں پہلے سے موجود کالونیوں میں تعمیر اور توسیع کا عمل جاری ہے۔
گذشتہ بدھ کو اسرائیلی حکومت نے عمونا صیہونی کالونی سے نکالے گئے آباد کاروں کو بسانے کے لیے 102 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔
گذشتہ برس سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں فلسطین میں صیہونی آباد کاری کو غیرقانونی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرارداد 2334 میں کہا گیا تھا کہ فلسطین کے سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی شہروں میں آباد کاری فلسطین، اسرائیل تنازع کے حل کی راہ میں رکاوٹ اور امن مساعی کو تباہ کرنے کی موجب بن رہی ہے۔
