رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صیہونی فوج نے فلسطین دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک شہید کے اس کے اہل خانہ سے ہرجانے کا مطالبہ کرڈالا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تین سال قبل اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی شہری عبداللہ غنیمات کو فوجی گاڑی تلے کچل کرشہید کردیا تھا۔ اس واقعے میں اسرائیلی فوج کی گاڑی بھی الٹ گئی تھی جسی بری طرح نقصان پہنچا۔صیہونی فوج کی طرف سے اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے کہا گیا ہےکہ وہ مقتول عبداللہ غنیمات کےاہل خانہ سے گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے ہرجانہ وصول کرنےکا حکم جاری کرے۔
صیہونی فوج کی طرف سے دائر کردہ اس انوکھی درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے فلسطینی قانون دانÂ نایلہ عطیہ نے کہا کہ عدالت میں دائر کردہ درخواست صیہونی فوج کا فلسطینیوں کے خلاف نفرت اور انتقام کا غیرمسبوق واقعہ ہے۔ فوج نے شہید فلسطینی کے اہل خانہ کو جیپ کو پہنچنے والے نقصان کے لیے 95 ہزار شیکل ہرجانے کا نوٹس جاری کرنے کا کہا ہے۔امریکی کرنسی میں یہ رقم 27 ہزار ڈالر بنتی ہے۔
دوسری جانب شہید فلسطینی کے والد ن میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ اسرائیلی فوج کے عدالتی اقدام پر ہمیں کوئی حیرت نہیں۔ صیہونی فوج روزانہ ہمارے بچوں کو شہید کرتی ہے اور دنیا کے سامنے جھوٹے دعوے کیے جاتے ہیں۔ یہ کوئی حیرت بات نہیں کہ وہ ہم سے ہمارے شہید کی قیمت بھی مانگیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے 21 سالہ فلسطینی نوجوان عبداللہ غنیمات کو 2016ء کو مشرقی رام اللہ میں کفر مالک کے مقام پر گاڑی تلے روند کر شہید کردیا تھا۔ اس واقعے میں اسرائیلی فوج کی جیپ بے قابو ہو کر الٹ گئی تھی۔ شہید فلسطینی کا جسد خاکی تین گھنٹے جیپ کےڈھانچے میں پھنسا رہا۔ شہید کے اہل خانہ نے اپنی مدد آپ اور ایک مقامی شہری کی کرین کی مدد سے جیپ سے شہید کا جسد خاکی باہرنکالا۔
