رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے بیت المقدس کی ایک مجسٹریٹ عدالت کو ایک درخواست دائر کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شمالی فلسطین کے العراقیب گاؤں کے مکینوں سے دو ملین شیکل کی رقم وصول کرے کیونکہ فوج اس بستی کو پچھلے دو سال میں سو کے قریب بار مسمار کرچکی ہے مگر اس کے علی الرغم فلسطینی مکانات دوبارہ بنا لیتے ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوج سنہ 2010 ء کے بعد سے العراقیب کے مقامی عرب شہریوں کو مکان مسمار کرنے کے نوٹس جاری کرتی رہی ہے مگر فلسطینیوں نے ان کے نوٹسز پرکوئی عمل درآمد نہیں کیا ہے۔
خیال رہے کہ العراقیب گاؤں جزیرہ نما النقب کے ان چالیس فلسطینی دیہات میں سے ایک ہے جنہیں اسرائیل نے غیرقانونی قرار دے کر ان کی مسماری کی ظالمانہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے العرقیب گاؤں کو 92 بار مسمار کیا جا چکا ہے۔
