مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مفتی اعظم اور مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ محمد حسین نے صہیونی اشرار کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دیواروں اور گاڑیوں پر گستاخانہ نعروں کی چاکنگ اور خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی دہشت گردی قرار دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب اور مفتی اعظم الشیخ محمد حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک منظم صہیونی غنڈہ گردہ اور شرپسند گروپ نے شمالی بیت المقدس میں شعفاط قصبے اور السھل کالونی میں دیواروں پر نبی اکرم کی شام میں گستاخانہ نعروں کی چاکنگ کے ساتھ ساتھ گاڑیوں پر بھی نازیبا الفاظ تحریر کرکے مسلمانوں کی مقدس ہستی کی توہین کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صہیونی اشرار کی طرف سے نعروں کی چاکنگ یہودیوں کی کھلم کھلا مذہبی دہشت گردی ہے۔اُنہوں نے گُستاخانہ نعروں کی چاکنگ کوانبیاء کرام کے خلاف صہیونی نسل پرستی کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ شرپسند صہیونی ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت نفرت پھیلانے، مذہبی دہشت گردی، تشدد اور Â انتہا پسندی کو ہوا دینے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
مفتی اعظم فلسطین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انبیاء کرام کی مجرمانہ توہین کا سلسلہ بند کرائے۔
مفتی اعظم فلسطین نے صہیونی اشرار کی طرف سے مقدس مقامات اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صہیونی ریاست اور صہیونی شرپسند مقدس مقامات کی توہین اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
