لبنانی اخبار”الرائے” کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک خصوصی فرمان کے ذریعے اپنے ماتحت تمام سیکیورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ شیرخوار فلسطینی کے بہیمانہ قتل کے رد عمل میں اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کاروں پر حملوں کو سختی سے روکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے حساس مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے خلاف کسی قسم کے مزاحمتی حملوں کو روکا جاسکے۔
اخبار نے فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیدار کی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا ہے کہ حال ہی میں صدرمحمود عباس کے زیرصدارت اجلاس میں غرب اردن میں ہنگامی سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس غرب اردن میں یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے خلاف کسی بھی قسم کی مسلح کارروائیوں کی سخت مخالفت کی ہے اور اپنے ماتحت سیکیورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ یہودی آباد کاروں کا تحفظ یقینی بنائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اقوام متحدہ میں متعین اپنےسفیر ریاض منصور کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ عرب ممالک اور سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ مل کر ایک نئی قرارداد کا مسودہ تیار کریں جس میں فلسطینی بچے کے وحشیانہ قتل کی مذمت اور یہودی آباد کاری روکنے کا مطالبہ کیا جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
