رپورٹ کے مطابق قارئین کی طویل ترین ’سیریز‘ کا اہتمام کرنے والی کمیٹی کے منتظم اور شہید فلسطینی نوجوان بہاء علیان کے قریبی عزیز شادی علیان نے بتایا کہ قارئین کی زنجیر کا تصور نیا نہیں بلکہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کی طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کا آغاز شہید فلسطینی بہاء علیان نے 26 مارچ 2014 ء کو بیت المقدس کے پرانی دیوار کے ساتھ کیا تھا جس میں اس وقت بڑی تعداد میں طلباء، اساتذہ، ماہرین تعلیم، شاعروں اورادیبوں نے شرکت کرکے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں شادی علیان کا کہنا تھا کہ قارئین کی طویل ترین سیریز کے اہتمام کا بنیادی مقصد طلباء بالخصوص اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں زیرتعلیم بچوں میں کتاب بینی اور مطالعے کا شوق اجاگر کرنا اور غیرنصابی کتب کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ زندہ دل فلسطینی شہری اس سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ہیں۔ فلسطینی شہری نہ صرف خود کتب کا مطالعہ کرتے ہیں بلکہ وہ دوستوں کے ساتھ کتابوں کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں شادی علیان کا کہنا تھا کہ قارئین کی عالمی سیریز کو’بہاء علیان شہید‘ ہی کے نام سے اس لیے منسوب کیا گیا ہے کیونکہ اس مثبت سرگرمی کا پہلا پتھرانہوں نے اپنی شہادت سے قبل رکھا تھا۔
خیال رہے کہ بہاء علیان کو اسرائیلی فوج نے پچھلے سال بیت المقدس میں گولیاں مار کر شہید کردیا تھا جس کے بعد ابھی تک اس کا جسد خاکی بھی اس کے ورثاء کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔
شہید کی یاد میں قارئین سیریز کا اہتمام فلسطین، اردن، لبنا، الجزائر،مراکش، تیونس، متحدہ عرب امارات، فرانس، جرمنی، کینیڈا، بیلجیم، امریکا اور اٹلی میں بھی کیا جا رہا ہے۔
