مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے روز فلسطینی مجلس قانون ساز کا اجلاس غزہ کی پٹی میں ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں غرب اردن میں سیاسی جماعتوں کے خلاف عباس ملیشیا کے کریک ڈائون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "سنگین جرم” قرار دیا گیا۔
ڈاکٹر احمد بحر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غرب اردن میں جاری پکڑ دھکڑ جمہوریت اور قومی مفاہمتی پالیسی سے انحراف کا واضح ثبوت ہے۔ فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست کی خوشنودی کے لیے سیاسی کارکنوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے جس کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔
بعد ازاں پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا الگ سے بھی اجلاس ہوا جس میں غرب اردن میں سیاسی جماعتوں کے خلاف عباس ملیشیا کے وحشیانہ کریک ڈائون کو انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے خلاف سازش قرار دیا گیا۔
خیال رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور اسلامی جہاد کے کارکنوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون جاری رکھا ہوا ہے۔ پچھلے ایک ماہ میں حماس کے اڑھائی سو سے زائد کارکنوں کو جب کہ اسلامی جہاد کے کئی ارکان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
