اسرائیلی نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے مشرقی ٹاؤن سلواد کی اراضی پر قبضہ کی دھمکی دے رکھی ہے جس کے خلاف مسلسل تیسرے ہفتے بھی ہزاروں فلسطینی نمازیوں نے اس مقام پر نماز جمعہ کی ادائیگی کی۔ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی آمد اور نماز کی ادائی کے بعد اسرائیلی فوج نے نمازیوں کو حملہ کردیا۔
اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر زہریلی گیس کے شیل اورربڑ کی گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ ادھر آنے والے فلسطینیوں نے اس چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کی جس پر اسرائیلی حکومت مکمل قبضہ کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ دیر جریر اور سلواد کے ٹاؤنز سے لوگ ٹولیوں کی شکل میں نماز جمعہ کے لیے آئ۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس تعداد کو کم کرنے کے لیے نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ بھی کی۔ صہیونی فوج کی ان کارروائیوں کی وجہ سے درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔
اس موقع پر اسرائیلی اہلکاروں نے طبی عملے کو موقع پر پہنچنے سے روکے۔ جھڑپوں میں ایک اسرائیلی سرحدی گارڈ کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی فوج کےساتھ ساتھ غاصب یہودی آباد کاروں نے بھی اس اراضی کے فلسطینی مالکان پر حملہ کیا تاہم فلسطینیوں کی جانب سے پتھراؤ کی وجہ سے انہیں فرار ہونا پڑا۔ یاد رہے کہ اس علاقے پر یہودی آبادکاروں کی جانب سے بھی آئے روز حملے کیے جارہے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
