مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین کی بائیں بازو کی ایک سیاسی جماعت ’’عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین‘‘ نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے مسودے میں ترمیم کے اعلان کو صدر محمود عباس کی سیاسی شکست سے تعبیر کیا ہے۔
عوامی محاذ کے سیاسی شعبے کے سینیر رکن ذوالفقار سویرجو نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارض فلسطین سے اسرائیل کے ناجائز قبضے کا خاتمہ قرارداد کا اہم ترین جزو ہے، اس میں ترمیم کے بعد قرارداد میں باقی کیا بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ صدر محمود عباس فلسطینیوں کے حق واپسی، اور بیت المقدس پر بھی کوئی سمجھوتہ کرنے جا رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سویرجو کا کہنا تھا کہ بیت المقدس اور مغربی کنارے سے یہودی کالونیوں اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے دو سال کا ٹائم فریم کافی ہے مگر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اس مطالبے سے بھی پسپائی اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے مطالبے سے دستبرداری سے مغربی کنارے اور بیت المقدس سمیت تمام متنازعہ علاقوں میں اسرائیلی یہودی آباد کاری کو جواز ملے گا اور اسرائیل سیاسی سطح پر زیادہ مضبوط ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سلامتی کونسل میں آزاد فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے ایک قرارداد جمع کرائی تھی۔ گذشتہ روز انہوں نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی قرارداد کے مسودے میں ترمیم کے خواہاں ہیں۔ ان کے اس اعلان پر فلسطین کے سیاسی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
