مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سابق اسیر محمد التاج کے دونوں گردے ناکارہ ہوچکے ہیں۔ گردوں کی ناکامی کے باعث وہ پچھلے دو سال سے بستر مرگ پرہیں مگر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ان کے علاج معالجے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ ان کے اہل خانہ نےمریض کے علاج کے لیے مکان اور گھر کے دیگر اثاثے تک نیلام کردیے ہیں مگر وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔ مریض کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔
محمد التاج کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مریض پچھلے دو سال سے بستر مرگ پرہیں۔ ڈاکٹروں نے ان کا بیرون ملک علاج کامشورہ دیا ہے مگر ان کے پاس انہیں بیرون ملک علاج کے لیے جانے کے وسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ التاج کی زندگی بچانے کے لیے فوری امداد فراہم کرے۔
خیال رہے کہ محمد التاج اسرائیل کی جیلوں میں 11 سال قید رہ چکے ہیں۔ سابق اسیر کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا صرف مصنوعی آکسیجن کےسہارسانس لے رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس کے علاج کے لیے 02 لاکھ ڈالر کے بھاری اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے۔ وہ اپنا گھر بار بیچ کر بھی اتنی رقم اکھٹی نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں سے بھی مریض کی زندگی بچانے کے لیے مدد کی اپیل کی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
