فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کو صہیونیوں سے لاحق خطرات کم نہیں ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ معرکہ جاری رکھا ہے اور اس میں فتح و نصرت سے ہم کنار ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبلہ اوّل کے باہر سے اسرائیلی پابندیاں اور رکاوٹیں ہٹانا عارضی اور جزوی فتح ہے جو قبلہ اوّل کی فتح کا ایک مرحلہ ہے۔ ہمیں ابھی قبلہ اوّل کی مکمل آزادی کے لیے بہت کچھ کرنا اور اسرائیلی ریاست کے پچھلے برسوں کے اٹھائے گئے اقدامات کو بھی ناکام بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبلہ اوّل کے حوالے سے اسرائیل کے ناپاک عزائم ابھی تک برقرار رہیں۔ اگرد شمن ایک بار ناکام ہوا ہے تو اس نے اپنے منصوبوں پرنظر ثانی کی ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ عوامی طاقت سے قبلہ اوّل کے دفاع کی تحریک کو جاری و ساری رکھنا ہے۔
الشیخ صبری نے کہا کہ فلسطینی قوم کی آج کی قربانیاں کل کو قبلہ اوّل کی آزادی کی صورت میں رنگ لائیں گی۔ علامہ صبری نے کہا کہ قبلہ اوّل پر پابندیاں عائد کرنے اور انہیں اٹھانے کے بعد اسرائیل اپنی ناکامی اور شکست فاش کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔ صہیونی انتظامیہ بدستور قبلہ اوّل اور اس کے اطراف پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے اور اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
مزعومہ ہیکل سلیمانی کی تباہی کی یاد کی آڑ میں حال ہی میں ہزاروں صہیونیوں کے قبلہ اوّل پر دھاوے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الشیخ صبری نے کہا کہ انتہا پسند صہیونی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل کرنے کی سازش کررہے ہیں۔
