اسرائیلی اخبار "یسرائیل ھیوم” نے کیروشنباؤم کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الزعبی پارلیمانی تحفظ سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل کے خلاف اور دہشت گرد گروپوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں”۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت جیوش ہوم کی جانب سے پارلیمنٹ میں دو الگ الگ مسودہ ہائے قانون بحث کے لیے پیش کیے ہیں۔ ایک میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف مسلح جدو جہد کی حامی لوگوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کی جائے اور دوسرے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی حمایت کرنے والے عرب ارکان کنیسٹ کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کی جائے۔
اسرائیل کی خاتون نائب وزیرداخلہ کیروشبناؤم نے حنین الزعبی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الزعبی اسرائیل کی نمائندہ نہیں بلکہ وہ حماس اور خلیجی ریاست قطر جیسے ممالک کی سفیر کا کردار ادا کررہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
