مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعرات کے روز جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کی حمایت میں پیش کی گئی قرارداد کی حمایت میں 193 رکن ممالک میں سے 180 نے حمایت کی۔ سات ممالک امریکا، اسرائیل، کینیڈا، جزائر مارشل، بالاو، مائکرونیزیا اور ناروو نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالا جبکہ چار ممالک کیمرون، ٹونگا، باراگوائے اور جنوبی سوڈان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے مسودے میں فلسطینی قوم کے لیے ایک آزاد اور مکمل طور پر خود مختار ریاست کی حمایت کی گئی تھی جس میں اقوام متحدہ کے تمام اداروں اور ایجنسیوں سے بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطینی قوم کی آزادی سمیت اس کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی حمایت کریں تاکہ کم سے کم وقت میں فلسطینی قوم اپنے حق خود ارادیت کے حصول میں کامیاب ہو سکے۔
اگرچہ جنرل اسمبلی کے فورم سے منظور کی گئی قرارداد کی حمایت اقوام متحدہ کے لیے لازمی نہیں ہے تاہم اس کے باوجود مبصرین کے خیال میں عالمی ادارے میں یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب سلامتی کونسل میں بھی ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں اس قرارداد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی اتھارٹی کے مستقل مندوب ریاض منصور نے جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی عالمی حمایت سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ عالمی برادری فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کی حامی ہے اور فلسطینیوں کو ایک قابض ریاست کے جبر سے آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم نے آزادی کے لیے ایک طویل اور صبرآزما جدو جہد کی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی قوم کو اس کی قربانیوں کا ثمر دیا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنرل اسمبلی کی پیروی کرتے ہوئے فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کی حمایت کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
