فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دو شہداء Â عبداللہ طقاطقہ اور محمد تنوح Â کو غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم میں شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا جب کہ ایک شہید رافت الحرباوی الخلیل شہر کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ تینوں شہداء کی نماز جنازہ اور تدفین میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
قبل ازیں جمعہ کی شام کو ہلال احمر فلسطین کے رضا کاروں نے شہید رافت الحرباوی کا جسد خاکی اسرائیلی فوج کے رابطہ مرکز سے وصول کیا Â جس کے بعد اسے ایک نجی فلسطینی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
شہید کا جسد خاکی ملنے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد اس کے گھر پرجمع ہوگئی۔ انہوں نے شہید کے حق اور اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
شہید الحرباوی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شہید کو آج ہفتے کی شام مسجد الحسین کے قریب شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
خیال رہے کہ الحرباوی گذشتہ ماہ کے وسط میں بیت عینون چوک کے قریب اس وقت جام شہادت نوش کرگئے تھے جب اسرائیلی فوج نے ان پر اندھا دھند گولیاں چلائی تھیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ الحرباوی نے اپنی گاڑی فوجیوں پر چڑھانے کی کوشش کی تھی جس پراسے گولیاں ماری گئیں۔
بیت لحم کے دو شہداء کے جسد خاکی مشرقی مزموریہ چیک پوسٹ سے ان کے ورثاء کے حوالے کیے گئے۔
شہدا کے دیدار کے لیے شہریوں کا جم غفیر امڈ آیا تھا۔ بعد ازاں دونوں شہداء کے جسد خاکی کو ایک نجی اسپتال منتقل کردیا گیا جنہیں آج آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
چوبیس سالہ شہید عبداللہ علی طقاطقہ کا تعلق جنوبی بیت لحم سے ہے۔ اسے اسرائیلی فوج نے 28 جولائی کو عتصیون صہیونی کالونی کے مرکزی چوک میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ جب کہ 26 سالہ محمد حسین تنوح کو مشرقی بیت لحم میں تقوع کے مقام پر 20 جولائی کو شہید کیا گیا۔ ان تینوں شہداء کے جسد خاکی اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لیے تھے۔
