مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مصطفیٰ البرغوثی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت پوری کی پوری فلسطینی قوم حالت انتفاضہ میں ہے لیکن بیت المقدس کے عوام براہ راست تحریک انتفاضہ شروع کرچکے ہیں۔ اسرائیلی صہیونی ریاست کی جانب سے براہ راست ریاستی دہشت گردی، پکڑ دھکڑ اور تشدد کا سامنا ہے۔ مسجداقصیٰ کی بندش اور اس کے آس پاس کے مقامات کو یہودیانے کی غیرمعمولی سازشیں بھی فلسطینیوں کو ایک نئی تحریک انتفاضہ شروع کرنے پر مجبور کررہی ہیں۔
فلسطینیس سیاسی رہ نما کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کی منظم یہودی آباد کاری کی ظالمانہ پالیسی اور نسل پرستانہ سرگرمیاں فلسطینی قوم کے لیے ناسور بن چکی ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے فلسطینیوں کے پاس دشمن کے خلاف مزاحمت کے سوا اور اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف فلسطینیوں کی اب تیسری انتفاضہ شروع ہوچکی ہے اسرائیل طاقت کا جتنا بھی استعمال کرلے اسے نہیں روک سکتا۔ اسرائیلی دشمن نے ماضی میں بھی طاقت اور وحشت کی زبان ہی استعمال کی ہے لیکن وہ فلسطینیوں کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکا ہے۔
مصظفیٰ البرغوثی نے بیت المقدس میں فلسطینی نوجوان معتز حجازی کو اس کے گھر میں گھس کرشہید کرنے کے اسرائیلی جارحانہ اقدام کی بھی شدید مذمت کی اور اسے صہیونی ریاست کی ننگی ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کسی عالمی قانون کی پابند نہیں اور وہ فلسطینوں کے خلاف صرف طاقت کا استعمال جانتی ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے فلسطینیوں کو بھی مذاکرات کے بجائے مسلح مزاحمت ہی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
