غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے عوامی اور سماجی حلقوں نے رام اللہ اتھارٹی کی جانب سے غزہ کی پٹی کے مریضوں کو دوسرے شہروں میں علاج کے لیے سفری اجازت سلب کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مریضوں کا قتل عام قرار دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں عوامی مہم برائے’غزہ بچاؤ‘ کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرےکا اہتمام کیا گیا۔ مظاہرے میں سیکڑوں فلسطینی شہریوں اور مریضوں کے اقارب نے شرکت کی۔ عوامی مہم برائے غزہ بچاؤ کی طرف سے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے وزارت صحت نے غزہ کے مریضوں کے ساتھ انتقامی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ غزہ کے مریضوں کو فلسطین کے دوسرے شہروں میں علاج کے لیے سفر کی اجازت دینے سے انکار بالعموم تمام مریضوں بالخصوص سرطان کے مریضوں کو سزائے موت دینے کے مترادف ہے۔غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے شعبہ بیرون ملک علاج کے سامنے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں عوامی مہم کے کارکنان نے مریضوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی فلسطینی مریضوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ان کے علاج میں مدد کے بجائے انہیں علاج کی بنیادی سہولیات ہی سے محروم کررہی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی نے غزہ میں کینسر کے سیکڑوں مریضوں کے علاج کے لیے فراہم کی جانے والی امداد بند کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کے مریضوں کو فلسطین کے دوسرے شہروں میں سفری سہولت بھی سلب کرلی تھی۔
عوامی مہم کے کارکنان نے عالمی برادری، عرب ممالک، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالم اسلام سے بھی اپیل کی کہ وہ غزہ کی پٹی کے مریضوں کے علاج معالجے میں ہرممکن مدد فراہم کریں، ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جہاں ایک طرف اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی پابندیوں سے اسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے وہیں اسپتالوں میں ادویہ کی بھی شدید قلت پائی جا رہی ہے۔
