بیت المقدس سے فلسطینی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز اور جعلی عرب فوجی اہلکاروں نے مشترکہ طور پر 32 سالہ معتز حجازی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور نہایت قریب سے اس پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔
گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہونے والی صہیونی فوج نے خود کو پھر بھی معصوم بنانے کی بھونڈی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ معتز نے ان پر فائرنگ کی کوشش کی تھی جس پر انہوں نے اس پر گولی چلائی ہے تاہم اس پوری کارروائی میں صہیونی فوجیوں کو خراش تک نہیں آئی۔
اسرائیلی فوج نے الزام عاید کیا تھا کہ رات گئے ایک یہودی انتہا پسند ربی یہودا گلیک پر قاتلانہ حملہ معتز حجازی نے کیا ہے۔ وہ اسے پکڑنے کے لیے اس کے گھر میں داخل ہوئے تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے گھر میں گھستے ہی معتز حجازی پر اندھا دھند گولیوں کی بارش برسادی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ فائرنگ کی زد میں آ کر تین اور افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جن کی شناخت مہدی برقان اور محمود شویکی کے ناموں سے کی گئی ہے۔ معتز اسپتال لے جانے سے قبل ہی دم توڑ گیا تاہم دوسرے زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ معتز حجازی ساڑھے گیارہ سال اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹی اور ان میں سے 10 سال قید تنہائی میں گذارے۔ معتز کو پانچ جون 2000ء میں اسرائیل کے خلاف تحریک انتفاضہ میں حصہ لینے کے پاداش میں چھ سال کے لیے جیل میں ڈالا گیا۔ سنہ 2004ء اس پر قیدیوں پر حملے کے الزام کے بعد چار سال قید مزید بڑھا دی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
