• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران کو جبری خوراک دینے کے قانون کو فعال کرنے کی کوشش

ہفتہ 13-06-2015
in فلسطین
0
plf forced-feeding
0
SHARES
1
VIEWS

اسرائیلی حکومت نے بھوک ہڑتالی اسیران کو طاقت کے ذریعے خوراک دینے کے ایک متنازعہ اور ظالمانہ نوعیت کے قانون کو فعال کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ اسرائیلی حکومت میں شامل وزیرداخلہ اس قانون کو فعال کرنے کے لیے دن رات کوششیں کررہے ہیں تاہم دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس قانون پرکڑی تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حکومت نے جون دو ہزار چودہ میں انتظامی قیدیوں پر اس قانون کا استعمال کرتے ہوئے انتظامی حراست میں لیے گئے اسیران کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا جس کے بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کی سخت تنقید کے بعد اس قانون کو غیرفعال کردیا گیا تھا۔

فلسطین میں انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر نے بتایا کہ ان دنوں اسرائیل کے تین سیکیورٹی ادارے صہیونی کنیسٹ پر”قیدیوں کو جبری خوراک” دینے کے قانون کو فعال کرنے کے لیے مسلسل دبائو ڈال رہے ہیں۔ قانون کو بحال کرنے کے لیے پارلیمنٹ سےپہلی رائے شماری میں اس کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے مگر دوسری اور تیسری رائے شماری کے بعد ہی قانون پرعمل درآمد ممکن بنایا جاسکے گا۔  قانون کو فعال کرنے کے لیے وزیراعظم نیتن یاھو اور داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے”شاباک” کا تعاون ضروری ہے۔

ریاض الاشقر نے بتایا کہ قیدیوں کو جبری خوراک دینے کے قانون کی نہ صرف بیرون ملک سے مخالفت کی جا رہی ہے بلکہ اسرائیل کے اندر بھی اس کے خلاف توانا آوازیں موجود ہیں۔ اسرائیلی اپوزیشن بھی اس قانون کے استعمال کی مخالف ہے کیونکہ کسی بھی قیدی کو جبری خوراک دینا اور اس کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی کوشش کرنا اس کی جان کو مزید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

الاشرق نے بتایا کہ جبری خوراک دینے کا قانون ماضی میں بھی نہایت تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس قانون پرعمل درآمد کے دوران سنہ 1970 اور 1980 ء کے دوران تین فلسطینی بھوک ہڑتال اسیران کو جان سے ماردیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ اس قانون کے تحت قیدیوں کو ناک کے ذریعے معدے تک خوراک مہیا کی جاتی ہے اور اگر قیدی اس کے خلاف مزاحمت کرے تو اسے وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.