مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حکومت نے جون دو ہزار چودہ میں انتظامی قیدیوں پر اس قانون کا استعمال کرتے ہوئے انتظامی حراست میں لیے گئے اسیران کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا جس کے بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کی سخت تنقید کے بعد اس قانون کو غیرفعال کردیا گیا تھا۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر نے بتایا کہ ان دنوں اسرائیل کے تین سیکیورٹی ادارے صہیونی کنیسٹ پر”قیدیوں کو جبری خوراک” دینے کے قانون کو فعال کرنے کے لیے مسلسل دبائو ڈال رہے ہیں۔ قانون کو بحال کرنے کے لیے پارلیمنٹ سےپہلی رائے شماری میں اس کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے مگر دوسری اور تیسری رائے شماری کے بعد ہی قانون پرعمل درآمد ممکن بنایا جاسکے گا۔ قانون کو فعال کرنے کے لیے وزیراعظم نیتن یاھو اور داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے”شاباک” کا تعاون ضروری ہے۔
ریاض الاشقر نے بتایا کہ قیدیوں کو جبری خوراک دینے کے قانون کی نہ صرف بیرون ملک سے مخالفت کی جا رہی ہے بلکہ اسرائیل کے اندر بھی اس کے خلاف توانا آوازیں موجود ہیں۔ اسرائیلی اپوزیشن بھی اس قانون کے استعمال کی مخالف ہے کیونکہ کسی بھی قیدی کو جبری خوراک دینا اور اس کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی کوشش کرنا اس کی جان کو مزید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
الاشرق نے بتایا کہ جبری خوراک دینے کا قانون ماضی میں بھی نہایت تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس قانون پرعمل درآمد کے دوران سنہ 1970 اور 1980 ء کے دوران تین فلسطینی بھوک ہڑتال اسیران کو جان سے ماردیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ اس قانون کے تحت قیدیوں کو ناک کے ذریعے معدے تک خوراک مہیا کی جاتی ہے اور اگر قیدی اس کے خلاف مزاحمت کرے تو اسے وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
