قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والی ایک شادہ شدہ خاتون چھ بچوں کی ماں کو مقبوضہ فلسطین کے "سوروکا” اسپتال” میں بچے کی پیدائش کے محض دو دن بعد حراست میں لے کر جیل میں ڈال دیا ہے۔
دوسری جانب فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے مریضہ خاتون کی ظالمانہ انداز میں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حراست میں لی گئی خاتون نے مقبوضہ جزیرہ نما النقب میں ایک شخص سے شادی ہوئی تھی اور وہ پچھلے کئی سال سے اس کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اسرائیلی پولیس نے اسے حراست میں لینے کا جواز یہ بتایا کہ چونکہ وہ خود مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرکنٹرول علاقے سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اس کا النقب میں رہنا غیر قانونی ہے۔ اسے فوری طور پر علاقہ چھوڑ دینا چاہیے۔
اسرائیلی کنیسٹ میں عرب کمیونٹی کے رکن طلب ابو عرار نے اسرائیلی وزیر داخلہ جدعو ساعر کے نام ایک مراسلے میں کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف حراست میں لی گئی خاتون کو فوری رہا کریں بلکہ اس غیراخلاقی حرکت میں ملوث پولیس اور فوجی اہلکاروں کو کڑی سزا دیں۔
طلب ابو عرار نے مکتوب میں فلسطینی خاتون کی گرفتاری کو اخلاقیات سے گری حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون کسی ماں کو بچے کی پیدائش کے محض دو دن بعد گرفتار کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیتا، چاہے اس کا جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔ فلسطینی خاتون نے گرفتاری سے دو روز قبل بئر سبع کے "سوروکا” اسپتال میں ایک بچے کو جنم دیا ہے اور پولیس اسے اسپتال سے اٹھا کر لے گئی۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور غیراخلاقی حرکت ہوسکتی ہے۔
طلب ابو عرار کا کہنا ہے کہ وہ تمام خواتین جو غزہ، مغربی کنارے یا فلسطین کے کسی بھی دوسرے علاقے سے شادی کر کے مقبوضہ فلسطین لائی گئی ہیں وہ فلسطینی شہری ہیں اور اسرائیل ان سے ان کی شناخت سلب نہیں کرسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
