• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

بچے کی ولادت کے دو روز بعد فلسطینی خاتون صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتار

بدھ 24-09-2014
in فلسطین
0
plf afterdelivery
0
SHARES
0
VIEWS

قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والی ایک شادہ شدہ خاتون چھ بچوں کی ماں کو مقبوضہ فلسطین کے "سوروکا” اسپتال” میں بچے کی پیدائش کے محض دو دن بعد حراست میں لے کر جیل میں ‌ڈال دیا ہے۔

دوسری جانب فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے مریضہ خاتون کی ظالمانہ انداز میں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حراست میں لی گئی خاتون نے مقبوضہ جزیرہ نما النقب میں‌ ایک شخص سے شادی ہوئی تھی اور وہ پچھلے کئی سال سے اس کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اسرائیلی پولیس نے اسے حراست میں لینے کا جواز یہ بتایا کہ چونکہ وہ خود مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرکنٹرول علاقے سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اس کا النقب میں رہنا غیر قانونی ہے۔ اسے فوری طور پر علاقہ چھوڑ دینا چاہیے۔

اسرائیلی کنیسٹ میں عرب کمیونٹی کے رکن طلب ابو عرار نے اسرائیلی وزیر داخلہ جدعو ساعر کے نام ایک مراسلے میں کی  گرفتاری پر شدید احتجاج کیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف حراست میں لی گئی خاتون کو فوری رہا کریں‌ بلکہ اس غیراخلاقی حرکت میں ملوث پولیس اور فوجی اہلکاروں کو کڑی سزا دیں۔
طلب ابو عرار نے مکتوب میں فلسطینی خاتون کی گرفتاری کو اخلاقیات سے گری حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون کسی ماں کو بچے کی پیدائش کے محض دو دن بعد گرفتار کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیتا، چاہے اس کا جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔ فلسطینی خاتون نے گرفتاری سے دو روز قبل بئر سبع کے "سوروکا” اسپتال میں ایک بچے کو جنم دیا ہے اور پولیس اسے اسپتال سے اٹھا کر لے گئی۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور غیراخلاقی حرکت ہوسکتی ہے۔

طلب ابو عرار کا کہنا ہے کہ وہ تمام خواتین جو غزہ، مغربی کنارے یا فلسطین کے کسی بھی دوسرے علاقے سے شادی کر کے مقبوضہ فلسطین لائی گئی ہیں وہ فلسطینی شہری ہیں اور اسرائیل ان سے ان کی شناخت سلب نہیں کرسکتا ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.