فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے ایک بیان میں اسرائیلی وزیر زراعت کے اس ریکاڈڈ بیان کی شدید مذمت کی جس میں انہوں نے مراکشی دروازے کو اس کے اسلامی نام کے بجائے عبرانی نام ’باب الھلیل‘ کے نام سے موسوم کرنے کی جسارت کی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیر ’یوری ارئیل‘ نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ فیس بک پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں ’باب المغاربہ‘ کو عبرانی زبان میں ’باب Â الھلیل‘ کا نام دیا تھا۔
الشیخ عکرمہ صبری نے صہیونی وزیر کی جانب سے باب المغاربہ کا نام تبدیل کرنے کی جسارت صہیونی ریاست کی مںظم مذہبی غنڈہ گردی کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر کی طرف سے قبلہ اوّل کے تاریخی دروازے کا عبرانی نام رکھنا صہیونی حکومت کے مذمو عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
فلسطینی عالم دین نے صہیونی آباد کاروں کی طرف سے سرکاری سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی کو بھی اسرائیل کی مذہبی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی مسجد اقصیٰ کی تاریخ اور اسلامی اسلامی تقدس کو مسخ کرنے کی جتنی مرضی سازشیں کریں وہ قبلہ اوّل کے خلاف اپنی مذموم سازشوں میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
