
محکمہِ خارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی نے کہا کہ ’’ امریکی حکومت 24 اکتوبر کو سلواد میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم کے دوران مارے جانے والے امریکی نابالغ شہری کی موت پر اسکے اہلِ خانہ سے گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ہم اس معاملے کو حل کرنے کیلئے تیز اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں اور کیس میں کسی قسم کی پیش رفت کی صورت میں ہم مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔
یاد رہے کہ 14 سالہ عروہ عبد الوھاب حماد امریکی شہر نیو اورلینز میں پیدا ہوا۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ آٹھ سال قبل مغربی کنارے میں واپس لوٹا جہاں اسے اسرائیلی فوج کے تصادم کے دوران گولی لگنے سے
اسکی موت ہو گئی۔
تاہم، اسلامی تحریکِ مزاحمت ’’حماس‘‘ نے ایک بیان میں رام اللہ میں شہید ہونے والے لڑکے کے لواحقین اور فلسطینی قوم سے افسوس کا اظہار کیا۔
حماس کے بیان میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جاری جرائم کے پیشِ نظر اسرائیلی اہداف پر کارروائیاں بڑھانے کا اعلان کر دیا۔
بیان میں عروہ حماد کی شہادت کو مسجدِ اقصیٰ اور مقبوضہ بیت المقدس کے دفاع کے لیے فلسطینی عوام کی ان گنت قربانیوں میں سے ایک گردانا۔ اسکے ساتھ تحریک نے اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینیوں کی کوششوں کو یکجا کرنے اور اپنے حقوق اور مزاحمت کی راہ کے ساتھ جڑے رہنے کی تلقین کی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین